یروشلم،30/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے جاری کردہ مشرق وسطیٰ کے نام نہاد امن منصوبہ”ڈیل آف دی سنچری“ پر فلسطینیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے- فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور اسلامی تحریک مزاحمت ”حماس“نے امریکی امن پروگرام یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی نئی چال قرار دیا ہے-فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا- انہوں نے کہا کہ یہ کوئی امن پروگرام نہیں بلکہ امن کے نام پر فلسطینی قوم سے ایک دھوکہ ہے جسے کوئی فلسطینی قبول نہیں کرے گا-عباس نے اس منصوبے کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کوکوئی حق نہیں کہ وہ فلسطینی قوم کے حقوق پر سودے بازی کریں - انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ منصوبہ منظور نہیں ہو گا اور دیگر سازشی منصوبوں کی طرح یہ بھی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا-رام للا میں فلسطینی قیادت سے ملاقات میں صدر عباس نے کہا کہ امریکہ کا منصوبہ صدی کی ڈیل نہیں بلکہ صدی کا طمانچہ ہے مگر ہم انشاء اللہ اس طمانچے کا منہ توڑ جواب دیں گے- دیگر سازشوں کی طرح اس سازش کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوگا- انہوں نے زور دے کر کہا کہ یروشلم برائے فروخت ہر گز نہیں - ہم اپنے دیرینہ حقوق پر کسی کو سودے بازی کی اجازت نہیں دیں گے-محمود عباس نے کہا کہ امریکہ کے امن منصوبے کی سازش ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کیا گیا ہے- اگر القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا تو ہم بھی یہ منصوبہ قبول نہیں کریں گے- کوئی عرب، مسلمان یا عیسائی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرے گا-صدرعباس نے ہماری حکمت عملی مشرقی یروشلم سمیت فلسطین کے تمام دیگر علاقوں سے اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ قبضے کو ختم کرانے کیلئے جاری رہے گی-
ہم امریکہ کے منصوبے کے خلاف فوری طورپر وہ تمام اقدامات اٹھائیں گے جو ہمیں اپنے حقوق کے لیے اٹھانے ہیں -اسلامی تحریک مزاحمت”حماس“ نے امریکہ کے نام نہاد امن منصوبے صدی کی ڈیل کو خطے میں تباہی کا ایک نیا حربہ قرار دیا ہے- حماس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ امن کا ذریعہ نہیں بلکہ پورے خطے میں تباہی اور بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا- یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں پیش کیاگیا ہے جب پہلے ہی سے پورا خطہ تباہی کی لپیٹ میں ہے- امریکی سازشی منصوبہ اس تباہی میں مزید اضافہ کرے گا-حماس نے امریکہ اور اسرائیل کو بدی کی قوتیں قرار دیا اور کہا کہ سنچری ڈیل بدی کی شیطانی قوتوں کی مکروہ چال ہے- یہ سازش ٹرمپ اور نیتن یاھو جیسے امن دشمن عناصر نے پیش کی ہے جس کا مقصد قضیہ فلسطین کو تباہ کرنا اور فلسطینی قوم کے حقوق اور ان کے مستقبل کی قیمت پر صہیونی ریاست کو مضبوط کرنا ہے-حماس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کیلئے امریکہ کا پروگرام امن کے لیے نہیں بلکہ بدامنی کا ذریعہ بنے گا- اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی انتظامیہ اور قابض ریاست پرعاید ہوگی-حماس کا کہنا ہے کہ امریکی منصوبے صدی کی ڈیل کے اعلان کے وقت بعض عرب اور یورپی ممالک کے مندوبین اور وزراء کی شرکت شرمناک ہے- یہ منصوبہ اسرائیل کو فلسطینی قوم پر اپنے جرائم کو مزید بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا- فلسطینی قوم کی تحریک آزادی کو جرم قرار دے کر اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کو سند جواز فراہم کی گئی ہے-بیان میں تمام فلسطینی قوتوں اور عالم اسلام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے صدی کی ڈیل منصوبے کے خلاف ایک موقف اختیار کرکے قابض صہیونی ریاست اور امریکی سازشی منصوبوں کو ناکام بنائیں -